تعارف

پاکستان دنیا کے اہم آم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن آم کی پیداوار مختلف کیڑوں اور بیماریوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ان میں سب سے خطرناک کیڑوں میں ہاپر شامل ہے۔ یہ کیڑا خاص طور پر پھول آنے کے موسم میں شدید نقصان پہنچاتا ہے اور اگر بروقت تدارک نہ کیا جائے تو پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔اس مضمون میں ہم آم کے ہاپر کی وجوہات، شناخت، نقصانات، علاج اور احتیاطی تدابیر پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے
آم کا ہاپر کیا ہے؟
آم کا ہاپر ایک چھوٹا رس چوسنے والا کیڑا ہے جو آم کے پھولوں، نئی کونپلوں اور ننھے پھلوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ پودے کا رس چوس کر اس کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے اور پھولوں کے جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔
آم کے ہاپر کے حملے کی بنیادی وجوہات
ہاپر کے پھیلاؤ اور افزائش میں کئی عوامل کردار ادا کرتے ہیں، جن میں شامل ہیں
- باغ میں زیادہ گھنا پن اور ہوا کی ناکافی آمدورفت
- درختوں کی بروقت کانٹ چھانٹ نہ کرنا
- باغ میں جڑی بوٹیوں کی کثرت
- گرم اور مرطوب موسمی حالات
- متاثرہ باغات کے قریب نئے باغات کا ہونا
آم کے ہاپر کی شناخت کیسے کریں؟
ہاپر کی بروقت شناخت مؤثر تدارک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نمایاں علامات
پھولوں اور نئی کونپلوں پر چھوٹے سبز، زردی مائل یا بھورے رنگ کے کیڑے نظر آتے ہیں۔
شاخوں کو ہلانے پر کیڑے پھدکتے یا اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
پھول سوکھ کر جھڑنے لگتے ہیں۔
ننھے پھل قبل از وقت گر جاتے ہیں۔
متاثرہ حصوں پر چپچپا مادہ جمع ہو جاتا ہے۔
چپچپے مادے پر سیاہ پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے۔

ہاپر اور دیگر بیماریوں میں فرق
پاؤڈری ملڈیوپھولوں اور پتوں پر سفید سفوف نما تہہ نظر آتی ہے جبکہ ہاپر میں کیڑے واضح طور پر موجود ہوتے ہیں
پتوں شاخوں اور پھلوں پر سیاہ یا بھورے دھبے بنتے ہیں، جبکہ ہاپر میں رس چوسنے کی علامات زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔
پتوں کا رنگ زرد یا ہلکا ہو سکتا ہے لیکن کسی قسم کے کیڑے موجود نہیں ہوتے۔
آم کے ہاپر سے ہونے والے نقصانات
ہاپر آم کی فصل کو شدید معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے، جن میں شامل ہیں
پھولوں کا جھڑ جانا-
ننھے پھلوں کا گرنا-
پھل بننے کی شرح میں کمی-
درخت کی عمومی کمزوری-
سیاہ پھپھوندی کی افزائش-
پیداوار میں 30 سے 80 فیصد تک کمی
آم کے ہاپر کا مؤثر علاج
باغ کی باقاعدہ صفائی کریں۔-
جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کریں۔-
درختوں کی مناسب کانٹ چھانٹ کریں۔-
باغ میں روشنی اور ہوا کی بہتر آمدورفت یقینی بنائیں۔
ہاپر کی تعداد نقصان دہ حد تک پہنچ جائے تو مناسب زرعی ماہر کے مشورے سے درج ذیل مؤثر ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں:-
Imidacloprid-
Acetamiprid-
Thiamethoxam-
Dinotefuran
نوٹ: ادویات کی مقدار اور استعمال کا طریقہ ہمیشہ لیبل ہدایات اور مقامی زرعی سفارشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

سپرے کا مناسب وقت
پھول نکلنے کے ابتدائی مرحلے میں- ضرورت کے مطابق 10 تا 14 دن بعد دوبارہ-
صبح سویرے یا شام کے وقت سپرے کرنا بہتر رہتا ہے
احتیاطی تدابیر
باقاعدہ نگرانی
پھول آنے کے موسم میں ہفتہ وار باغ کا معائنہ کریں۔
متوازن کھاد کا استعمال
ضرورت سے زیادہ نائٹروجن ہاپر کی افزائش میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
باغ کی صفائی
متاثرہ شاخوں اور گرے ہوئے پتوں کو تلف کریں۔
شہد کی مکھیوں کا تحفظ
پھولوں کے دوران سپرے کرتے وقت شہد کی مکھیوں کا خاص خیال رکھیں اور شام کے وقت سپرے کو ترجیح دیں۔
نتیجہ
آم کا ہاپر پاکستان میں آم کی پیداوار کو متاثر کرنے والے اہم ترین کیڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی بروقت شناخت، مسلسل نگرانی، مناسب باغی انتظام اور بروقت تدارکی اقدامات کے ذریعے نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ کسان اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ابتدائی مرحلے میں کنٹرول کریں تو بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کے پھل حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
Alpha Crop Sciences
جدید زراعت، بہتر پیداوار