پاکستان میں آم کے سیزن کے مسائل — متوقع صورتحال، پیداوار اور چیلنجز
پاکستان دنیا کے بڑے آم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور 2026 کا آم سیزن کسانوں، ایکسپورٹرز، تاجروں اور صارفین کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔آم کو پاکستان میں “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے اور یہ ملکی زرعی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں آم پیدا کرنے والے اہم علاقے پنجاب اور سندھ ہیں، خاص طور پر ملتان، رحیم یار خان، مظفرگڑھ اور میرپور خاص۔
2026پاکستان میں آم کا متوقع سیز
امید کی جا رہی ہے کہ 2026 میں آم کا سیزن مئی کے دوران شروع ہوگا اور مختلف اقسام اور علاقوں کے مطابق اگست تک جاری رہے گا۔بازار میں آنے والی مشہور آم کی اقسام میں شامل ہیں
کئی علاقوں میں بہتر موسمی حالات کی وجہ سے کسان اس سال پھل کے معیار اور پیداوار میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔
پاکستان میں آم کی پیداوار — تازہ ترین اعداد و شمار
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سالانہ 2.1ملین ٹن سے زائد آم پیدا کرنے والا ملک ھے۔ اس پیداوار میں سب سے زیادہ حصہ جنوبی پنجاب کے اضلاع کا ھے۔ایک اندازے کے مطابق ہر 2میں سے ایک آم جنوبی پنجاب پیدا کرتا ھے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ آم پیدا کرنے والے اضلاع مندرجہ ذیل ہیں

آم کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل مندرجہ ذیل ھیں
ایران جنگ کا پاکستان کے آم کی برآمدات پر اثر
ایران جنگ اور خلیجی کشیدگی پاکستان کی آم کی برآمدات کو شدید متاثر کر سکتی ہے کیونکہ پاکستان کے زیادہ تر آم خلیجی ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں، اور ان کی ترسیل زیادہ تر خلیجی سمندری راستوں اور فضائی کارگو کے ذریعے ہوتی ہے۔پاکستان کی ٹوٹل برآمدات کا کوبھیجے جاتے ہیںUAE میںسب سے زیادہ آمMiddle East تقریباً 70–75فیصد آم خلیجی ممالک کو بھیجے جاتے ہیںاور
ایران ،اسرائیل اور امریکا جنگ کی وجہ سے مندرجہ ذیل چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کسان اور تاجر حضرات بہت زیادہ خسارے میں رہ سکتے ھیں
Graphical Representation of Mango Export From Pakistan

اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے توبحیرہ ہرمز ،یو اے ای کی بندرگاہیں،خلیجی شپنگ روٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جس سےکنٹینرز تاخیر کا شکار ہوں گے ،جہازوں کی آمدورفت کم ہو گی ،آم خراب ہونے کا خطرہ بڑھے گا کیونکہ آم جلد خراب ہونے والی فصل ہے، اس لیے چند دن کی تاخیر بھی بڑا نقصان بن سکتی ہے۔ پاکستان اپنے زیادہ تر آم ان ممالک کو بھیجتا ہے
یہ تمام ممالک جنگی خطے کے قریب ہیں، اس لیے وہاں طلب کم ہو سکتی ہے ،کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور اس کے علاوہ ایئر کارگو مہنگا یا محدود ہو سکتا ہے۔جس کی وجہ سے پاکستان میں آم کی قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت بہت کم رہنے کا اندیشہ ھے۔کیونکہ جنگ کی حالت میں برآمدات بہت کم ہونگی اور زیادہ تر آم پاکستان میں رہ جائے گاجس کی وجہ سے لوکل مارکیٹ میں آم زیادہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو کم قیمت ملے گی۔اس کے علاوہ ایکسپورٹر حضرات مال خراب ہونےاور آرڈر کینسل ہونے کے نقصانات کے علاوہ مہنگے فضائی اخراجات اور کولڈ سٹوریج کی کمی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
ایران جنگ کا ممکنہ فائدہ
اگرجنگ کی وجہ سے بھارت یا ایران کی برآمدات متاثر ہوں تو پاکستان متحدہ عرب امارات سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں اپنی برآمدات بڑھا سکتا ھے لیکن اس کے امکانات انتہائی کم دکھائی دیتے ہیں۔
آم کی پیداوار پر موسم کے اثرات
موسم آم کی پیداوار پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے عوامل میں سے ایک ہے۔موسم کی وجہ سے مندرجہ ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جن کا تدارک انتہائی ضروری ھے
پھل کی نشوونما کے دوران شدید گرمی
اچانک آندھیاں اور تیز ہوائیں
بعض علاقوں میں پانی کی کمی
نمی کی وجہ سے پھپھوندی والی بیماریاں
آم کے ہوپر اور فروٹ فلائی جیسے کیڑوں کا حملہ
کیڑوں اور بیماریوں کے آم کے باغات پر اثرات
پاکستان میں عام طور پر مندرجہ زیل بیماریاں پائی جاتی ہیں
کسانوں کو چاہیے کہ وہ زرعی ماہرین کی ہدایات کے مطابق مناسب سپرے شیڈول اپنائیں اور تجویز کردہ زرعی ادویات ذمہ داری سے استعمال کریں۔تاکہ وہ کیڑوں اور بیماریوں سے ہونے والے فصل کے نقصان سے بچ سکین اور اپنی فصل سے بھرپور فائدہ حاصل کر سکیں۔
پاکستان میں آم کا سیزن 2026 مقامی مارکیٹ اور برآمدات دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر باغات کی مناسب دیکھ بھال، بیماریوں کا کنٹرول اور سازگار موسمی حالات برقرار رہے تو کسان بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کا پھل حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان کی آم کی صنعت ملکی زرعی شعبے میں اہم مقام رکھتی ہے، اور جدید زرعی طریقے پیداوار اور منافع میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔
such informative content